نئی دہلی، 21 مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) جے ڈی یو کے سینئر لیڈر شرد یادو نے کہا ہے کہ وادی کشمیر میں حالات اب ہاتھ سے نکل گئے ہیں اور حکومت اسے کنٹرول کرنے میں غیر سنجیدہ ہے۔ شرد یادو اپوزیشن جماعتوں کی حمایت سے کشمیر پر ایک کانفرنس کے انعقاد کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یادو بی جے پی کے یشونت سنہا کے علاوہ کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات کر چکے ہیں۔سنہا اس غیر سرکاری وفد کا حصہ تھے، جس نے وہاں کے حالات پر ایک قومی کانفرنس منعقد کرنے کی کوششوں کے تحت وہاں کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ وادی میں صورتحال انتہائی سنگین ہو گئی ہے اور گزشتہ تین سال میں یہ ہاتھ سے نکل چکی ہے، اب وہاں امن قائم ہونا انتہائی مشکل ہے، ریاست دہشت گردی کی گرفت میں ہے، ایسا گزشتہ 15 سال میں نہیں دیکھا گیا تھا اور حکومت اسے کنٹرول کرنے میں ناکام ہے۔انہوں نے ملک کے کچھ حصوں میں گورکشکوں کی طرف سے دہشت گردانہ کاروائیوں اور نسل پرست حملوں کا حوالہ دیا اور بی جے پی کے ساتھ وابستہ تنظیموں اور گروپوں پر ان دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دینے کا الزام لگایا۔سال 2014 کے انتخابات میں اقتدار میں آنے سے پہلے بی جے پی نے عوام سے جو 42 بڑے وعدے کئے تھے، انہیں پورا نہیں کرنے کے لئے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ نے نریندر مودی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بھگوا پارٹی نے سالانہ دو کروڑ نوجوانوں کو روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن سال2014-15 میں صرف 1.35 لاکھ نئی نوکریاں دی گئیں۔
یادو نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے کہا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پیداواری لاگت سے 50 فیصد زیادہ ہو گی لیکن بہت سے کسان خودکشی کرنے کے لیے مجبور ہیں کیونکہ وہ اپنی مصنوعات ایم ایس پی سے بھی کم شرح پر فروخت کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت ایسی پہلی حکومت ہے جس نے صحت اور تعلیم دونوں وزارتوں کا بجٹ کم کیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ یہ حکومت غریبوں، ایس سی اورایس ٹی کے لوگوں کے لئے نہیں بلکہ امیروں اور اعلی ذاتوں کے لئے ہے۔